غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا

گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا

برقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے

دیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا

وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیا

میں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا

دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں

اب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا

سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا

اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا

ہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلے

اب سجدے ہی میں گزرے ہے قد جو ہوا محراب سا

تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھو

اب دیدۂ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا

بہکے جو ہم مست آ گئے سو بار مسجد سے اٹھا

واعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا

رکھ ہاتھ دل پر میرؔ کے دریافت کر کیا حال ہے

رہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

غزل

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

غزل

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

غزل

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

غزل

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…