غزل1 منٹ کا مطالعہ

نہیں وسواس جی گنوانے کے

نہیں وسواس جی گنوانے کے

ہائے رے ذوق دل لگانے کے

میرے تغییر حال پر مت جا

اتفاقات ہیں زمانے کے

دم آخر ہی کیا نہ آنا تھا

اور بھی وقت تھے بہانے کے

اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیں

ڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے

بس ہیں دو برگ گل قفس میں صبا

نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے

مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحب

بندے ہیں اپنے جی چلانے کے

اب گریباں کہاں کہ اے ناصح

چڑھ گیا ہاتھ اس دوانے کے

چشم نجم سپہر جھپکے ہے

صدقے اس انکھڑیاں لڑانے کے

دل و دیں ہوش و صبر سب ہی گئے

آگے آگے تمہارے آنے کے

کب تو سوتا تھا گھر مرے آ کر

جاگے تالا غریب خانے کے

مژہ ابرو نگہ سے اس کی میرؔ

کشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے

تیر و تلوار و سیل یکجا ہیں

سارے اسباب مار جانے کے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

Kya kahiye ki khooban ne ab hum mein hai kya rakha

غزل

مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں

کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں

Mar mar gaye nazar kar us ke barhana tan mein

غزل

یار میرا بہت ہے یار فریب

مکر ہے عہد سب قرار فریب

Yaar mera bohat hai yaar fareb

غزل

شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک

دوری رہ ہے راہ بر نزدیک

Shauq hai to hai is ka ghar nazdeek

غزل

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا

سو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا

Woh dekhne hamein tuk bemari mein na aaya

غزل

یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی

نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی

Yeh chashm-e-aaina-dar ru thi kaso ki

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…