غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا

کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گرد باد برسوں

گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا

کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش

اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا

انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد

روز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا

اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو

جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا

افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق

کہتے ہیں میرے منہ پر اب شیخ و شاب کیا کیا

پھر پھر گیا ہے آ کر منہ تک جگر ہمارے

گزرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا

آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منہ پر

تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا

کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میرؔ جی کو

کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

غزل

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

غزل

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

غزل

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

غزل

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…