غزل1 منٹ کا مطالعہ

تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے

تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے

بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے

اب کے بگڑے گی اگر ان سے تو اس شہر سے جا

کسو ویرانے میں تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے

معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خوں ریزی کا

پہلے تلوار کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے

ہوگا ایسا بھی کوئی روز کہ مجلس سے کبھو

ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے

جا نہ اظہار محبت پہ ہوسناکوں کی

وقت کے وقت یہ سب منہ کو چھپا بیٹھیں گے

دیکھیں وہ غیرت خورشید کہاں جاتا ہے

اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے

بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے اس ظالم کے

گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے

کب تلک گلیوں میں سودائی سے پھرتے رہیے

دل کو اس زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے

شعلہ افشاں اگر ایسی ہی رہی آہ تو میرؔ

گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں