Mohabbat Ka Jab Roz-e-Bazaar Hoga
تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن
صبا موئے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے
کہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہوگا
مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ
کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہوگا
نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں
یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا
قیامت کو کس کس سے خوں دار ہوگا
ملے گا تو صورت سے بیزار ہوگا
نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں
ابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہوگا
کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب
زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن
یہ دیوار کا سایہ دیوار ہوگا
نہ مر کر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا
نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یاں
جو ہوگا تو جیسے گنہ گار ہوگا
Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
View Full Profile →More by MIR TAQI MIR
← Previous Ghazal
Andoh Se Hui Na Rehai Tamam Shab
Next Ghazal →
Mehr Ki Tujh Se Tawaqqa Thi Sitam Gar Nikla