Ghazal1 min read

Aisa Tera Reh Guzar Na Hoga

ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا

ہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا

کیا ان نے نشے میں مجھ کو مارا

اتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا

دھوکا ہے تمام بحر دنیا

دیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہوگا

آئی جو شکست آئنے پر

روئے دل یار ادھر نہ ہوگا

دشنوں سے کسی کا اتنا ظالم

ٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا

اب دل کے تئیں دیا تو سمجھا

محنت زدوں کے جگر نہ ہوگا

دنیا کی نہ کر تو خواست گاری

اس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا

آ خانہ خرابی اپنی مت کر

قحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا

ہو اس سے جہاں سیاہ تد بھی

نالے میں مرے اثر نہ ہوگا

پھر نوحہ گری کہاں جہاں میں

ماتم زدہ میرؔ اگر نہ ہوگا

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

Jab se is be-wafa ne baal rakhe

Ghazal

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

Ghazal

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

Ghazal

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

Ghazal

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

Ghazal

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…