Ghazal1 min read

Yun Hi Hairan O Khafa Joon Ghuncha-E-Tasveer Hoon

یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں

عمر گزری پر نہ جانا میں کہ کیوں دلگیر ہوں

اتنی باتیں مت بنا مجھ شیفتے سے ناصحا

پند کے لائق نہیں میں قابل زنجیر ہوں

سرخ رہتی ہیں مری آنکھیں لہو رونے سے شیخ

مے اگر ثابت ہو مجھ پر واجب ال تعزیر ہوں

نے فلک پر راہ مجھ کو نے زمیں پر رو مجھے

ایسے کس محروم کا میں شور بے تاثیر ہوں

جوں کماں گرچہ خمیدہ ہوں پہ چھوٹا اور وہیں

اس کے کوچے کی طرف چلنے کو یارو تیر ہوں

جو مرے حصے میں آوے تیغ جمدھر سیل و کارد

یہ فضولی ہے کہ میں ہی کشتۂ‌ شمشیر ہوں

کھول کر دیوان میرا دیکھ قدرت مدعی

گرچہ ہوں میں نوجواں پر شاعروں کا پیر ہوں

یوں سعادت ایک جمدھر مجھ کو بھی گزاریے

منصفی کیجے تو میں تو محض بے تقصیر ہوں

اس قدر بے ننگ خبطوں کو نصیحت شیخ جی

باز آؤ ورنہ اپنے نام کو میں میرؔ ہوں

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

Jab se is be-wafa ne baal rakhe

Ghazal

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

Ghazal

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

Ghazal

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

Ghazal

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

Ghazal

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…