Ghazal1 min read

Dil Ki Taraf Kuch Aah Se Dil Ka Lagao Hai

دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے

ٹک آپ بھی تو آئیے یاں زور باؤ ہے

اٹھتا نہیں ہے ہاتھ ترا تیغ جور سے

ناحق کشی کہاں تئیں یہ کیا سبھاؤ ہے

باغ نظر ہے چشم کے منظر کا سب جہاں

ٹک ٹھہرو یاں تو جانو کہ کیسا دکھاؤ ہے

تقریب ہم نے ڈالی ہے اس سے جوئے کی اب

جو بن پڑے ہے ٹک تو ہمارا ہی داؤ ہے

ٹپکا کرے ہے آنکھ سے لوہو ہی روز و شب

چہرے پہ میرے چشم ہے یا کوئی گھاؤ ہے

ضبط سرشک خونیں سے جی کیونکے شاد ہو

اب دل کی طرف لوہو کا سارا بہاؤ ہے

اب سب کے روزگار کی صورت بگڑ گئی

لاکھوں میں ایک دو کا کہیں کچھ بناؤ ہے

چھاتی کے میری سارے نمودار ہیں یہ زخم

پردہ رہا ہے کون سا اب کیا چھپاؤ ہے

عاشق کہیں جو ہو گے تو جانو گے قدر میرؔ

اب تو کسی کے چاہنے کا تم کو چاؤ ہے

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

Ghazal

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

Ghazal

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

Ghazal

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

Ghazal

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

Ghazal

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…