غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا

نکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا

بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پر

ورنہ بناؤ ہووے نہ دن اور رات کا

در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگر

صورت نہ پکڑے کام فلک کے ثبات کا

ہیں مستحیل خاک سے اجزائے نو خطاں

کیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا

مستہلک اس کے عشق کے جانیں ہیں قدر مرگ

عیسیٰ و خضر کو ہے مزہ کب وفات کا

اشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحار

لکھنا نہ تو بھی ہو سکے اس کی صفات کا

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور

شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا

بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ

ہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا

ہر صفحے میں ہے محو کلام اپنا دس جگہ

مصحف کو کھول دیکھ ٹک انداز بات کا

ہم مذنبوں میں صرف کرم سے ہے گفتگو

مذکور ذکر یاں نہیں صوم و صلٰوۃ کا

کیا میرؔ تجھ کو نامہ سیاہی کا فکر ہے

ختم رسل سا شخص ہے ضامن نجات کا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

غزل

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

غزل

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

غزل

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

غزل

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…