غزل1 منٹ کا مطالعہ

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی

خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی

غموں نے آج کل سنیو وہ آبادی ہی غارت کی

نگاہ مست سے جب چشم نے اس کی اشارت کی

حلاوت مے کی اور بنیاد میخانے کی غارت کی

سحر گہ میں نے پوچھا گل سے حال زار بلبل کا

پڑے تھے باغ میں یک مشت پر اودھر اشارت کی

جلایا جس تجلی جلوہ گر نے طور کو ہم دم

اسی آتش کے پر کالے نے ہم سے بھی شرارت کی

نزاکت کیا کہوں خورشید رو کی کل شب مہ میں

گیا تھا سائے سائے باغ تک تس پر حرارت کی

نظر سے جس کی یوسف سا گیا پھر اس کو کیا سوجھے

حقیقت کچھ نہ پوچھو پیر کنعاں کی بصارت کی

ترے کوچے کے شوق طوف میں جیسے بگولا تھا

بیاباں میں غبار میرؔ کی ہم نے زیارت کی

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں