غزل1 منٹ کا مطالعہ

رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا

رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا

یک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا

وہ لڑکپن سے نکل کر تیغ چمکانے لگا

خون کرنے کا خیال اب کچھ اسے آنے لگا

لعل جاں بخش اس کے تھے پوشیدہ جوں آب حیات

اب تو کوئی کوئی ان ہونٹھوں پہ مر جانے لگا

حیف میں اس کے سخن پر ٹک نہ رکھا گوش کو

یوں تو ناصح نے کہا تھا دل نہ دیوانے لگا

حبس دم کے معتقد تم ہو گے شیخ شہر کے

یہ تو البتہ کہ سن کر لعن دم کھانے لگا

گرم ملنا اس گل نازک طبیعت سے نہ ہو

چاندنی میں رات بیٹھا تھا سو مرجھانے لگا

عاشقوں کی پائمالی میں اسے اصرار ہے

یعنی وہ محشر خرام اب پاؤں پھیلانے لگا

چشمک اس مہ کی سی دل کش دید میں آئی نہیں

گو ستارہ صبح کا بھی آنکھ جھپکانے لگا

کیونکر اس آئینہ رو سے میرؔ ملیے بے حجاب

وہ تو اپنے عکس سے بھی دیکھو شرمانے لگا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں