Ghazal1 min read

Kya Kahiye Ki Khooban Ne Ab Hum Mein Hai Kya Rakha

کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے

گل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا

جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم تو

گرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا

کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہو

دل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا

تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکی

میں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا

خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئی

رخساروں کو گو تو نے برقع سے چھپا رکھا

چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیں

جھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا

لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نے

سو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا

کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کی

میں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا

قطعی ہے دلیل اے میرؔ اس تیغ کی بے آبی

رحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے

Kya kya baithe bigad bigad tum par hum tum se banaye gaye

Ghazal

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا

مشبک کر گیا ہے تن ہمارا

Idhar aa kar shikar afgan hamara

Ghazal

جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر

کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر

Jab hum kalam hum se hota hai paan kha kar

Ghazal

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

Jaan gudaaz itni kahan awaaz-e-ood-o-chang hai

Ghazal

نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا

Naqsh baithay hai kahan khwahish-e-aazaadi ka

Ghazal

مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں

کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں

Mar mar gaye nazar kar us ke barhana tan mein

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…