Ghazal1 min read

Shauq Hai To Hai Is Ka Ghar Nazdeek

شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک

دوری رہ ہے راہ بر نزدیک

آہ کرنے میں دم کو سادھے رہ

کہتے ہیں دل سے ہے جگر نزدیک

دور والوں کو بھی نہ پہنچے ہم

یہی نہ تم سے ہیں مگر نزدیک

ڈوبیں دریا و کوہ و شہر و دشت

تجھ سے سب کچھ ہے چشم تر نزدیک

حرف دوری ہے گرچہ انشا لیک

دیجو خط جا کے نامہ بر نزدیک

دور اب بیٹھتے ہیں مجلس میں

ہم جو تم سے تھے بیشتر نزدیک

خبر آتی ہے سو بھی دور سے یاں

آؤ یک بار بے خبر نزدیک

توشۂ آخرت کا فکر رہے

جی سے جانے کا ہے سفر نزدیک

دور پھرنے کا ہم سے وقت گیا

پوچھ کچھ حال بیٹھ کر نزدیک

مر بھی رہ میرؔ شب بہت رویا

ہے مری جان اب سحر نزدیک

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے

Kya kya baithe bigad bigad tum par hum tum se banaye gaye

Ghazal

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا

مشبک کر گیا ہے تن ہمارا

Idhar aa kar shikar afgan hamara

Ghazal

جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر

کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر

Jab hum kalam hum se hota hai paan kha kar

Ghazal

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

Jaan gudaaz itni kahan awaaz-e-ood-o-chang hai

Ghazal

نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا

Naqsh baithay hai kahan khwahish-e-aazaadi ka

Ghazal

کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

Kya kahiye ki khooban ne ab hum mein hai kya rakha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…