غزل1 منٹ کا مطالعہ

مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا

مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا

نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا

پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری

میں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا

میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ

اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا

بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو

پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا

استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں

واں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا

وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ

آنکھوں کو غزالوں کی پاؤں تلے مل جاتا

بے تاب و تواں یوں میں کاہے کو تلف ہوتا

یاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا

اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی

وہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا

مارا گیا تب گزرا بوسے سے ترے لب کے

کیا میرؔ بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

Jab se is be-wafa ne baal rakhe

غزل

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

غزل

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

غزل

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

غزل

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

غزل

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…