Ghazal1 min read

Gaye Jee Se Chhute Buton Ki Jafa Se

گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے

یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے

وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں

مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے

کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے

یہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے

پشیمان توبہ سے ہوگا عدم میں

کہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے

نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں

کدورت مجھے ہے نہایت صبا سے

جگر سوئے مژگاں کھنچا جائے ہے کچھ

مگر دیدۂ تر ہیں لوہو کے پیاسے

اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے

تعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے

طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھا

ہوا درد عشق آہ دونا دوا سے

ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کر

کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے

نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت

کہو میرؔ جی آج کیوں ہو خفا سے

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے

Kya kya baithe bigad bigad tum par hum tum se banaye gaye

Ghazal

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا

مشبک کر گیا ہے تن ہمارا

Idhar aa kar shikar afgan hamara

Ghazal

جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر

کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر

Jab hum kalam hum se hota hai paan kha kar

Ghazal

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

Jaan gudaaz itni kahan awaaz-e-ood-o-chang hai

Ghazal

نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا

Naqsh baithay hai kahan khwahish-e-aazaadi ka

Ghazal

کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

Kya kahiye ki khooban ne ab hum mein hai kya rakha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…