Ghazal1 min read

Jo Main Na Hoon To Karo Tark-e-Naaz Karne Ko

جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو

کوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو

نہ دیکھو غنچۂ نرگس کی اور کھلتے میں

جو دیکھو اس کی مژہ نیم باز کرنے کو

نہ سوئے نیند بھر اس تنگنا میں تا نہ موئے

کہ آہ جا نہ تھی پا کے دراز کرنے کو

جو بے دماغی یہی ہے تو بن چکی اپنی

دماغ چاہیے ہر اک سے ساز کرنے کو

وہ گرم ناز ہو تو خلق پر ترحم کر

پکارے آپ اجل احتراز کرنے کو

جو آنسو آویں تو پی جا کہ تا رہے پردہ

بلا ہے چشم تر افشائے راز کرنے کو

سمند ناز سے تیرے بہت ہے عرصہ تنگ

تنک تو ترک کر اس ترک تاز کرنے کو

بسان زر ہے مرا جسم زار سارا زرد

اثر تمام ہے دل کے گداز کرنے کو

ہنوز لڑکے ہو تم قدر میری کیا جانو

شعور چاہیے ہے امتیاز کرنے کو

اگرچہ گل بھی نمود اس کے رنگ کرتا ہے

ولیک چاہیے ہے منہ بھی ناز کرنے کو

زیادہ حد سے تھی تابوت میرؔ پر کثرت

ہوا نہ وقت مساعد نماز کرنے کو

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

Ghazal

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

Ghazal

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

Ghazal

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

Ghazal

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

Ghazal

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…