Ghazal1 min read

Khubi Ka Is Ki Baska Talabgar Ho Gaya

خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا

گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا

کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر

میں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا

میں نو دمیدہ بال چمن زاد طیر تھا

پر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا

ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کا

سینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا

ہے اس کے حرف زیر لبی کا سبھوں میں ذکر

کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا

تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ

وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا

کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی

دل دار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا

آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمہارے ساتھ

کچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا

کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میرؔ

ناکردہ جرم میں تو گنہ گار ہو گیا

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں

ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں

Teri abroo o tegh-e-tez to hum-dam hain yeh dono

Ghazal

جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں

وے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں

Jins-e-giraan ko tujh se jo log chahte hain

Ghazal

ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں

سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں

Hijran ki kuft kheenchy be-dam se ho chaley hain

Ghazal

بے روے و زلف یار ہے رونے سے کام یاں

دامن ہے منہ پہ ابر نمط صبح و شام یاں

Be-ruye-o-zulf-e-yar hai rone se kaam yaan

Ghazal

یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا

ہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا

Yaad-e-Ayyam ke yaan tark-e-shakeebai tha

Ghazal

کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں

تم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں

Khovein hain neend meri museebat bayaniyan

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…