غزل1 منٹ کا مطالعہ

تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں

تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں

ہوئے ہیں دل جگر بھی سامنے رستم ہیں یہ دونوں

نہ کچھ کاغذ میں ہے تانے قلم کو درد نالوں کا

لکھوں کیا عشق کے حالات نامحرم ہیں یہ دونوں

لہو آنکھوں سے بہتے وقت رکھ لیتا ہوں ہاتھوں کو

جراحت ہیں اگر وے دونوں تو مرہم ہیں یہ دونوں

کسو چشمے پہ دریا کے دیا اوپر نظر رکھیے

ہمارے دیدۂ نم دیدہ کیا کچھ کم ہیں یہ دونوں

لب جاں بخش اس کے مار ہی رکھتے ہیں عاشق کو

اگرچہ آب حیواں ہیں و لیکن سم ہیں یہ دونوں

نہیں ابرو ہی مائل جھک رہی ہے تیغ بھی ادھر

ہمارے کشت و خوں میں متفق باہم ہیں یہ دونوں

کھلے سینے کے داغوں پر ٹھہر رہتے ہیں کچھ آنسو

چمن میں مہر ورزی کے گل‌ و شبنم ہیں یہ دونوں

کبھو دل رکنے لگتا ہے جگر گاہے تڑپتا ہے

غم ہجراں میں چھاتی کے ہماری جم ہیں یہ دونوں

خدا جانے کہ دنیا میں ملیں اس سے کہ عقبیٰ میں

مکاں تو میرؔ صاحب شہرۂ عالم ہیں یہ دونوں

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں