Ghazal1 min read

Kehte Hain Bahaar Aayi Gul Phool Nikalte Hain

کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں

ہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں

اب ایک سی بے ہوشی رہتی نہیں ہے ہم کو

کچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں

وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہے

اب دیدۂ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں

ان پاؤں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیسا

افسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں

کیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنے

ہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں

کرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کی

تب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں

گل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹک

جی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں

ہیں نرم صنم گو نہ کہنے کے تئیں ورنہ

پتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں

اے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہے

جو رہ سکو رہ جاؤ اب میرؔ بھی چلتے ہیں

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

Kya kahiye ki khooban ne ab hum mein hai kya rakha

Ghazal

مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں

کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں

Mar mar gaye nazar kar us ke barhana tan mein

Ghazal

یار میرا بہت ہے یار فریب

مکر ہے عہد سب قرار فریب

Yaar mera bohat hai yaar fareb

Ghazal

شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک

دوری رہ ہے راہ بر نزدیک

Shauq hai to hai is ka ghar nazdeek

Ghazal

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا

سو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا

Woh dekhne hamein tuk bemari mein na aaya

Ghazal

یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی

نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی

Yeh chashm-e-aaina-dar ru thi kaso ki

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…