Ghazal· 2 min read

Shikwa Karun Main Kab Tak Us Apne Meharban Ka

شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید

خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا

لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے

جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا

دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو

یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا

ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے

پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا

ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی

ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا

تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا

اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا

فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے

وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا

کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو

احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا

سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو

سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا

نا حق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر

طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا

ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے

ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا

جس دن کہ اس کے منہ سے برقع اٹھے گا سنیو

اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا

نا حق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے

ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا

سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا

سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا

سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے

اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا

یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گزری

کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا

قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی

گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا

پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے

چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

Ghazal

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

Ghazal

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

Ghazal

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

Ghazal

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

Ghazal

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…