غزل1 منٹ کا مطالعہ

رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا

رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا

پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا

ہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشت

کرتے ہو قہر لطف کی جاگا غضب ہے کیا

عزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہے

مجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا

آئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئے

اس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا

حیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیں

یہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا

آنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھے

عالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا

اس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیں

گر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا

تم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیے

اپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا

کیوں کر تمہاری بات کرے کوئی اعتبار

ظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا

اس مہ بغیر میرؔ کا مرنا عجب ہوا

ہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں