غزل1 منٹ کا مطالعہ

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

آئے برنگ ابر عرق ناک تم ادھر

حیران ہوں کہ آج کدھر کو کرم ہوا

تجھ بن شراب پی کے موئے سب ترے خراب

ساقی بغیر تیرے انہیں جام سم ہوا

کافر ہمارے دل کی نہ پوچھ اپنے عشق میں

بیت الحرام تھا سو وہ بیت الصنم ہوا

خانہ خراب کس کا کیا تیری چشم نے

تھا کون یوں جسے تو نصیب ایک دم ہوا

تلوار کس کے خون میں سر ڈوب ہے تری

یہ کس اجل رسیدہ کے گھر پر ستم ہوا

آئی نظر جو گور سلیماں کی ایک روز

کوچے پر اس مزار کے تھا یہ رقم ہوا

کاے سرکشاں جہان میں کھینچا تھا میں بھی سر

پایان کار مور کی خاک قدم ہوا

افسوس کی بھی چشم تھی ان سے خلاف عقل

بار علاقہ سے تو عبث پشت خم ہوا

اہل جہاں ہیں سارے ترے جیتے جی تلک

پوچھیں گے بھی نہ بات جہاں تو عدم ہوا

کیا کیا عزیز دوست ملے میرؔ خاک میں

نادان یاں کسو کا کسو کو بھی غم ہوا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

Jab se is be-wafa ne baal rakhe

غزل

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

غزل

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

غزل

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

غزل

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

غزل

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…