غزل1 منٹ کا مطالعہ

واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا

واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا

یاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا

آیا جو واقعے میں درپیش عالم مرگ

یہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا

دیکھا جو اوس پڑتے گلشن میں ہم تو آخر

گل کا وہ روئے خنداں چشم پر آب نکلا

پردے ہی میں چلا جا خورشید تو ہے بہتر

اک حشر ہے جو گھر سے وہ بے حجاب نکلا

کچھ دیر ہی لگی نہ دل کو تو تیر لگتے

اس صید ناتواں کا کیا جی شتاب نکلا

ہر حرف غم نے میرے مجلس کے تئیں رلایا

گویا غبار دل کا پڑھتا کتاب نکلا

روئے عرق فشاں کو بس پونچھ گرم مت ہو

اس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا

مطلق نہ اعتنا کی احوال پر ہمارے

نامے کا نامے ہی میں سب پیچ و تاب نکلا

شان تغافل اپنے نو خط کی کیا لکھیں ہم

قاصد موا تب اس کے منہ سے جواب نکلا

کس کی نگہ کی گردش تھی میرؔ رو بہ مسجد

محراب میں سے زاہد مست و خراب نکلا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…