غزل1 منٹ کا مطالعہ

کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں

کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں

الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں

میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہو کر خاک سے سرزد

یکایک آ گیا اس آسماں کی پائمالی میں

تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے

سخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں

برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ

تسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں

مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگا

پڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خوردسالی میں

خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا

نہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں

نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا

ملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں

شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے

بھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس مینائے خالی میں

خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے

یہی تو میرؔ اک خوبی ہے معشوق خیالی میں

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

Jab se is be-wafa ne baal rakhe

غزل

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

غزل

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

غزل

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

غزل

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

غزل

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…