Ghazal1 min read

Suna Hai Haal Tere Kushtagan Becharon Ka

سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کا

ہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا

ہزار رنگ کھلے گل چمن کے ہیں شاہد

کہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا

ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاں

نکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا

عرق فشانی سے اس زلف کی ہراساں ہوں

بھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا

علاج کرتے ہیں سودائے عشق کا میرے

خلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروں کا

تری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھا دیں گے

جو کوئی مانگے گا نامہ سیاہ کاروں کا

خراش سینۂ عاشق بھی دل کو لگ جائے

عجب طرح کا ہے فرقہ یہ دل فگاروں کا

نگاہ مست کے مارے تری خراب ہیں شوخ

نہ ٹھور ہے نہ ٹھکانا ہے ہوشیاروں کا

کریں ہیں دعویٰ خوش چشمی آہوان دشت

ٹک ایک دیکھنے چل ملک ان گنواروں کا

تڑپ کے مرنے سے دل کے کہ مغفرت ہو اسے

جہاں میں کچھ تو رہا نام بے قراروں کا

تڑپ کے خرمن گل پر کبھی گر اے بجلی

جلانا کیا ہے مرے آشیاں کے خاروں کا

تمہیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرور

خدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہ گاروں کا

اٹھے ہے گرد کی جا نالہ گور سے اس کی

غبار میرؔ بھی عاشق ہے نے سواروں کا

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

جب سے اس بے وفا نے بال رکھے

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

Jab se is be-wafa ne baal rakhe

Ghazal

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

Ghazal

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

Ghazal

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

Ghazal

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

Ghazal

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…