غزل1 منٹ کا مطالعہ

مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں

مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں

ہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں

آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں ہنر عشق

رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں

اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں

ہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں

ہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشک

از بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں

آیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہوگی

آزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں

دامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے کہ ستم گر

ہوں خاک سر راہ کوئی دم میں ہوا ہوں

دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں

میں سوختہ بھی منتظر روز جزا ہوں

گو طاقت و آرام و خور و خواب گئے سب

بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں

اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ میں ہوں بہر چیز

معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ میں کیا ہوں

بہتر ہے غرض خامشی ہی کہنے سے یاراں

مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے جیا ہوں

تب گرم سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمر

جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں

سینہ تو کیا فضل الٰہی سے سبھی چاک

ہے وقت دعا میرؔ کہ اب دل کو لگا ہوں

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں