غزل1 منٹ کا مطالعہ

پلکوں پہ تھے پارۂ جگر رات

پلکوں پہ تھے پارۂ جگر رات

ہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات

اک دن تو وفا بھی کرتے وعدہ

گزری ہے امیدوار ہر رات

مکھڑے سے اٹھائیں ان نے زلفیں

جانا بھی نہ ہم گئی کدھر رات

تو پاس نہیں ہوا تو روتے

رہ رہ گئی ہے پہر پہر رات

کیا دن تھے کہ خون تھا جگر میں

رو اٹھتے تھے بیٹھ دوپہر رات

واں تم تو بناتے ہی رہے زلف

عاشق کی بھی یاں گئی گزر رات

ساقی کے جو آنے کی خبر تھی

گزری ہمیں ساری بے خبر رات

کیا سوز جگر کہوں میں ہمدم

آیا جو سخن زبان پر رات

صحبت یہ رہی کہ شمع روی

لے شام سے تا دم سحر رات

کھلتی ہے جب آنکھ شب کو تجھ بن

کٹتی نہیں آتی پھر نظر رات

دن وصل کا یوں کٹا کہے تو

کاٹی ہے جدائی کی مگر رات

کل تھی شب وصل اک ادا پر

اس کی گئے ہوتے ہم تو مر رات

جاگے تھے ہمارے بخت خفتہ

پہنچا تھا بہم وہ اپنے گھر رات

کرنے لگا پشت چشم نازک

سوتے سے اٹھا جو چونک کر رات

تھی صبح جو منہ کو کھول دیتا

ہر چند کہ تب تھی اک پہر رات

پر زلفوں میں منہ چھپا کے پوچھا

اب ہووے گی میرؔ کس قدر رات

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں