Ghazal· 1 min read

Chhati Jala Kare Hai Soz-e-Daroon Bala Hai

چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے

اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے

میں اور تو ہیں دونوں مجبور طور اپنے

پیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے

روئے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یا رب

سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے

کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاں

دل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے

حسن ان بھی معینوں کا تھا آپ ہی صورتوں میں

اس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے

شادی سے غم جہاں میں وہ چند ہم نے پایا

ہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے

ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکن

ہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے

ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہ

ہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے

نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساں

جی ڈوبتا ہے اس کا جو تہہ سے آشنا ہے

مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبر

جس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے

تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کر

جوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے

ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکن

جس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے

پھرتے ہو میرؔ صاحب سب سے جدے جدے تم

شاید کہیں تمہارا دل ان دنوں لگا ہے

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

Ghazal

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

Ghazal

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

Ghazal

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

Ghazal

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

Ghazal

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…