Ghazal1 min read

Nala-e-Ajz Naqs-e-Ulfat Hai

نالۂ عجز نقص الفت ہے

رنج و محنت کمال راحت ہے

عشق ہی گریۂ ندامت ہے

ورنہ عاشق کو چشم خفت ہے

تا دم مرگ غم خوشی کا نہیں

دل آزردہ گر سلامت ہے

دل میں ناسور پھر جدھر چاہے

ہر طرف کوچۂ جراحت ہے

رونا آتا ہے دم بدم شاید

کسو حسرت کی دل سے رخصت ہے

فتنے رہتے ہیں اس کے سائے میں

قد و قامت ترا قیامت ہے

نہ تجھے رحم نے اسے ٹک صبر

دل پہ میرے عجب مصیبت ہے

تو تو نادان ہے نپٹ ناصح

کب مؤثر تری نصیحت ہے

دل پہ جب میرے آ کے یہ ٹھہرا

کہ مجھے خوش دلی اذیت ہے

رنج و محنت سے باز کیونکے رہوں

وقت جاتا رہے تو حسرت ہے

کیا ہے پھر کوئی دم کو کیا جانو

دم غنیمت میاں جو فرصت ہے

تیرا شکوہ مجھے نہ میرا تجھے

چاہیے یوں جو فی الحقیقت ہے

تجھ کو مسجد ہے مجھ کو مے خانہ

واعظا اپنی اپنی قسمت ہے

ایسے ہنس مکھ کو شمع سے تشبیہ

شمع مجلس کی رونی صورت ہے

باطل السحر دیکھ باطل تھے

تیری آنکھوں کا سحر آفت ہے

ابر تر کے حضور پھوٹ بہا

دیدۂ تر کو میرے رحمت ہے

گاہ نالاں تپاں گہے بے دم

دل کی میرے عجب ہی حالت ہے

کیا ہوا گر غزل قصیدہ ہوئی

عاقبت قصۂ محبت ہے

تربت میرؔ پر ہیں اہل سخن

ہر طرف حرف ہے حکایت ہے

تو بھی تقریب فاتحہ سے چل

بخدا واجب الزیارت ہے

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

Juz jurm-e-ishq koi bhi sabit kiya gunah

Ghazal

جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں

گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں

Joshish-e-ashk se hoon aath pehar paani mein

Ghazal

ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک

سوکھا نہیں لوہو در و دیوار سے اب تک

Hain baad mere marg ke aasar se ab tak

Ghazal

دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

Dil pur khoon hai yahan tujh ko gumaan hai sheesha

Ghazal

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

Daman-e-koh mein jo main daarh maar roya

Ghazal

کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہے

زاہد جو صفت تجھ میں ہے سوزن جلبی ہے

Kehna tere munh par to nipat be-adabi hai

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…