غزل1 منٹ کا مطالعہ

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

رو و خال و زلف ہی ہیں سنبل و سبزہ و گل

آنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نیرنگ ہے

بے ستوں کھودے سے کیا آخر ہوئے سب کار عشق

بعد ازاں اے کوہ کن سر ہے ترا اور سنگ ہے

آہ ان خوش قامتوں کو کیونکے بر میں لائیے

جن کے ہاتھوں سے قیامت پر بھی عرصۂ تنگ ہے

عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایک

نا خلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے

چشم کم سے دیکھ مت قمری تو اس خوش قد کو ٹک

آہ بھی سرد گلستاں شکست رنگ ہے

ہم سے تو جایا نہیں جاتا کہ یکسر دل میں واں

دو قدم اس کی گلی کی راہ سو فرسنگ ہے

ایک بوسے پر تو کی ہے صلح پر اے زود رنج

تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات اوپر جنگ ہے

پاؤں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دے

پیش رفت آگے ہمارے کب یہ عذر لنگ ہے

فکر کو نازک خیالوں کے کہاں پہنچے ہیں یار

ورنہ ہر مصرع یہاں معشوق شوخ و شنگ ہے

سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئے

شعر یہ کم فہم سمجھے ہیں خیال بنگ ہے

صبر بھی کریے بلا پر میرؔ صاحب جی کبھو

جب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…