غزل1 منٹ کا مطالعہ

سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے

سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے

تس پہ یہ جان بہ لب آمدہ بھی محزوں ہے

اس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیوں کر تاب

چشم اعجاز مژہ سحر نگہ افسوں ہے

آہ یہ رسم وفا ہووے بر افتاد کہیں

اس ستم پر بھی مرا دل اسی کا ممنوں ہے

کبھو اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک ابر تنک

گرد نمناک پریشاں شدۂ مجنوں ہے

کیونکے بے بادہ لب جو پہ چمن میں رہیے

عکس گل آب میں تکلیف مئے گلگوں ہے

پار بھی ہو نہ کلیجے کے تو پھر کیا بلبل

مصرع نالہ جگر کاوی ہے گو موزوں ہے

شہر کتنا جو کوئی ان میں سرشک افشاں ہو

رو کش گریۂ غم حوصلۂ ہاموں ہے

خون ہر ایک رقم شوق سے ٹپکے تھا ولے

وہ نہ سمجھا کہ مرے نامے کا کیا مضموں ہے

میرؔ کی بات پہ ہر وقت یہ جھنجھلایا نہ کر

سڑی ہے خبطی ہے وہ شیفتہ ہے مجنوں ہے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…