غزل1 منٹ کا مطالعہ

حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے

حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے

سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے

موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو

کسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے

اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر

صنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے

یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب

لگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے

ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں

نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے

جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے

جراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے

کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے

ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے

ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن

کہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے

غم فراق ہے دنبالۂ گرد عیش وصال

فقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے

قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا

جو کچھ بھی پائیے تجھ کو تو آشنا بھی ہے

جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو

کسو کے زخم کو تو نے کبھو سیا بھی ہے

گزار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں

کہ اس دیار میں میرؔ شکستہ پا بھی ہے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں