غزل1 منٹ کا مطالعہ

کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا

کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا

شام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یکجا نہ تھا

شہرۂ عالم اسے یمن محبت نے کیا

ورنہ مجنوں ایک خاک افتادۂ ویرانہ تھا

منزل اس مہ کی رہا جو مدتوں اے ہم نشیں

اب وہ دل گویا کہ اک مدت کا ماتم خانہ تھا

اک نگاہ آشنا کو بھی وفا کرتا نہیں

وا ہوئیں مژگاں کہ سبزہ سبزۂ بیگانہ تھا

روز و شب گزرے ہے پیچ و تاب میں رہتے تجھے

اے دل صد چاک کس کی زلف کا تو شانہ تھا

یاد ایامے کہ اپنے روز و شب کی جائے باش

یا در باز بیاباں یا در مے خانہ تھا

جس کو دیکھا ہم نے اس وحشت کدے میں دہر کے

یا سڑی یا خبطی یا مجنون یا دیوانہ تھا

بعد خوں ریزی کے مدت بے حنا رنگیں رہا

ہاتھ اس کا جو مرے لوہو میں گستاخانہ تھا

غیر کے کہنے سے مارا ان نے ہم کو بے گناہ

یہ نہ سمجھا وہ کہ واقع میں بھی کچھ تھا یا نہ تھا

صبح ہوتے وہ بناگوش آج یاد آیا مجھے

جو گرا دامن پہ آنسو گوہر یک دانہ تھا

شب فروغ بزم کا باعث ہوا تھا حسن دوست

شمع کا جلوہ غبار دیدۂ پروانہ تھا

رات اس کی چشم میگوں خواب میں دیکھی تھی میں

صبح سوتے سے اٹھا تو سامنے پیمانہ تھا

رحم کچھ پیدا کیا شاید کہ اس بے رحم نے

گوش اس کا شب ادھر تا آخر افسانہ تھا

میرؔ بھی کیا مست طافح تھا شراب عشق کا

لب پہ عاشق کے ہمیشہ نعرۂ مستانہ تھا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…