Ghazal1 min read

Muwa Mein Sajde Mein Par Naqsh Mera Baar Raha

موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا

اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا

جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف

خبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا

بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف

سر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا

کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح

تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا

شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب

پھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا

بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا

وہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا

وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا

وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا

تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں

وہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا

ستم میں غم میں سرانجام اس کا کیا کہیے

ہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا

بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہہ نکلا

رہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا

سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے

کہ اس سے قطرۂ خوں بھی نہ یادگار رہا

گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر

میں میرؔ میرؔ کر اس کو بہت پکار رہا

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے وہ ہیں آئے گئے

Kya kya baithe bigad bigad tum par hum tum se banaye gaye

Ghazal

ادھر آ کر شکار افگن ہمارا

مشبک کر گیا ہے تن ہمارا

Idhar aa kar shikar afgan hamara

Ghazal

جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر

کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر

Jab hum kalam hum se hota hai paan kha kar

Ghazal

جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے

دل کے سے نالوں کا ان پردوں میں کچھ آہنگ ہے

Jaan gudaaz itni kahan awaaz-e-ood-o-chang hai

Ghazal

نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا

ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا

Naqsh baithay hai kahan khwahish-e-aazaadi ka

Ghazal

کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

Kya kahiye ki khooban ne ab hum mein hai kya rakha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…